انتخاب:-حفیظ چوھدری Entekhab Urdu by Hafiz Chadhari ( इंतेख़ाब by हाफ़िज चोधरी ) 

*اردو کی چند اہم تعریفیں اور اردو گرائمر *حمد : نظم جس میں اللہ کی تعریف ہونعت : رسول اکرم ص کی تعریفی نظمقصیدہ/منقبت : کسی بھی شخصیت کی توصیفی نظممثنوی:چھوٹی بحر کی نظم جسکے ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں اور ہر شعر کا قافیہ الگ ہو۔مرثیہ: موت پہ اظہارِ رنج کی شاعری کی نظمغزل: عورتوں کی شاعری عشق، حسن و جمال و ہجر و فراق پہ شاعرینظم: ایک ہی مضمون والی مربوط شاعریقطعہ: بغیر مطلع کے دو یا دو سے ذیادہ اشعار جس میں ایک ہی مضمون کا تسلسل ہورباعی: چار مصرعوں کی نظم جسکا پہلا دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوں۔مخمس: وہ نظم جسکے بند پانچ پانچ مصرعوں کے ہوںمسدس: وہ نظم جسکے ہر بند کے چھے مصرعے ہوںداستان: کہانی کی قدیم قسمناول: مسلسل طویل قصہ جس کاموضوع انسانی زندگی ہو اور کردار متنوع ہوںافسانہ: مختصر کہانیڈرامہ : کہانی جسکو اسٹیج پہ کرداروں کی مدد سے پیش کیا جائےانشائیہ: ہلکا پھلکا مضمون جس میں زندگی کے کسی موضوع کو لکھا جائےخاکہ: کسی شخصیت کی مختصر مگر جامع تصویر کشیمضمون: کسی معین موضوع پہ خیالات و محسوساتآپ بیتی: خود نوشت و سوانح عمریسفر نامہ: سفری واقعات و مشاہداتمکتوب نگاری: خط لکھناسوانح عمری: کسی عام یا خاص شخص کی حیات کا بیانیہ بتفصیل.......اسم نکرہ کا مفہوم-وہ اسم جو غیر معین شخص یا شے (اشخاص یا اشیا) کے معانی دے اسم نکرہ کہلاتا ہے ــیاوہ اسم جو کسی عام جگہ، شخص یا کسی چیز کے لئے بولا جائے اسم نکرہ کہلاتا ہے اس اسم کو اسم عام بھی کہتے ہیں۔اسم نکرہ کی اقساماسم ذاتاسم حاصل مصدراسم حالیہاسم فاعلاسم مفعولاسم استفہاماسم ذات اُس اسم کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی چیز کی تمیزدوسری چیزوں سے کی جائے۔یاوہ اسم جس میں ایک چیز کی حقیقت یا اصلیت کو دوسری چیز سے الگ سمجھا جائے اسم ذات کہلاتا ہے۔اسم ذات کی مثالیں1۔ قلم، دوات 2۔ صبح، شام 3۔ ٹیلی فون، میز 4۔ پروانہ، شمع 5۔ بکری، گائے 6۔ پنسل، ربڑ 7۔ مسجد، کرسی 8۔ کتاب، کاغذ 9۔ گھڑی،دیوار 10۔ کمپیوٹر، ٹیلی ویژن وغیرہاشعارکی مثالیںزندگی ہو میرے پروانے کی صورت یارب علم کی شمع سے ہومجھ کو محبت یاربصبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمریوں ہی تمام ہوتی ہےاسم ذات کی اقسام1۔ اسم تصغیر 2۔ اسم مکبر 3۔ اسم ظرف 4۔ اسم آلہ 5۔ اسم صوت1۔ اسم تصغیریا اسم مصغرکا مفہوموہ اسم جس میں کسی نام کی نسبت چھوٹائی کے معنی پائے جائیں اسم تصغیر یا اسم مصغر کہلاتا ہے۔یااسم تصغیر وہ اسم ہے جس میں چھوٹا ہونے کے معنی پائے جائیں تصغیر کے معنی چھوٹا کے ہیں۔یااسم تصغیر وہ اسم ہے جس میں کسی چیز کا چھوٹا ہونا ظاہرہو۔اسم تصغیریا اسم مصغرکی مثالیںگھر سے گھروندا، بھائی سے بھیا، دُکھ سے دُکھڑا، صندوق سے صندوقچہ، پنکھ سے پنکھڑی، دَر سے دَریچہ وغیرہ2۔ اسم مکبروہ اسم ہے جس میں کسی چیز نسبت بڑائی کے معنی پائے جائیں اسم مکبر کہلاتا ہے۔یااسم مکبر وہ اسم ہے جس میں بڑائی کے معنی پائے جائیں، کبیر کے معنی بڑا کے ہوتے ہیں۔یااسم مکبر اس اسم کو کہتے ہیں جس میں بڑائی کے معنی ظاہر ہوں۔مثالیںلاٹھی سے لٹھ، گھڑی سے گھڑیال، چھتری سے چھتر، راہ سے شاہراہ، بات سے بتنگڑ، زور سے شہ زور وغیرہ3۔ اسم ظرفاسم ظرف اُس اسم کو کہتے ہیں جو جگہ یا وقت کے معنی دے۔یاظرف کے معنی برتن یا سمائی کے ہوتے ہیں، اسم ظرف وہ اسم ہوتا ہے جو جگہ یا وقت کے معنی دیتا ہے۔مثالیںباغ، مسجد، اسکول۔ صبح، شام، آج، کل وغیرہاسم ظرف کی اقساماسم ظرف کی دو اقسام ہیںاسم ظرف زماںاسم ظرف مکاں1۔ اسم ظرف زماںاسم ظرف زماں وہ اسم ہوتا ہے جو کسی وقت (زمانے) کو ظاہر کرےیاایسا اسم جو وقت یا زمانے کے معنی دے اسم ظرف زماں کہلاتا ہے۔مثالیںسیکنڈ، منٹ، گھنٹہ، دن، رات، صبح، شام، دوپہر، سہ پہر، ہفتہ، مہینہ، سال، صدی، آج، کل، پرسوں، ترسوں وغیرہ2۔ اسم ظرف مکاںاسم ظرف مکاں وہ اسم ہے جو جگہ یا مقام کے معنی دے۔یاوہ اسم جو کسی جگہ یا مقام کے لئے بولا جائے اُسے اسم ظرف مکاں کہتے ہیں۔مثالیںمسجد، مشرق، میدان، منڈی، سکول، زمین، آسمان، مدرسہ، وغیرہ4۔ اسم آلہاُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی آلہ یا ہتھیار کا نام ہو۔یااسم آلہ وہ اسم ہے جو کسی آلہ یا ہتھیار کے لئے بولا جائے۔یااسم آلہ اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی آلہ یا ہتھیار کا نام ہو، آلہ کے معنی اوزار یا ہتھیار کے ہوتے ہیں۔مثالیںگھڑی، تلوار، چُھری، خنجر، قلم، توپ، چھلنی وغیرہ5۔ اسم صوتوہ اسم جو کسی انسان، حیوان یا بے جان کی آواز دے اسم صوت کہلاتا ہے۔اسم صوت وہ اسم ہے جو کسی جاندار یا بے جان کی آواز کو ظاہر کرے۔ایسا اسم جو کسی جاندار یا بے جان کی آواز کو ظاہر کرے اسم صوت کہلاتا ہے، صوت کے معنی آواز کے ہوتے ہیں۔مثالیںکُٹ کُٹ مرغی کی آواز، چوں چوں چڑیا کی آواز، غٹرغوں کبوتر کی آواز، ککڑوں کوں مرغے کی آواز، کائیں کائیں کوے کی آواز وغیرہ2۔۔ اسم حاصل مصدرایسا اسم جو مصدر سے بنا ہو اور جس میں مصدر کے معانی پائے جائیں اسم حاصل مصدر کہلاتا ہے۔یاوہ اسم جو مصدرنہ ہو لیکن مصدر کے معنی دے حاصل مصدر کہلاتا ہے۔یاوہ اسم جس میں مصدر کے معانی پائے جائیں یعنی جو مصدر کی کیفیت کو ظاہر کرے اسم حاصل مصدر کہلاتا ہے۔مثالیںمثلاً: چہکنا سے چہک، ملنا سے ملاب، پڑھنا سے پڑھائی، چمکنا سے چمک، گبھرانا سے گبھراہٹ، پکڑنا سے پکڑ، چمکنا سے چمک، سجانا سے سجاوٹ وغیرہ۔3۔ اسم حالیہاسم حالیہ اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی فائل یا مفعول کی حالت کو ظاہر کرے۔مثالیںہنستا ہوا، ہنستے ہنستے، روتا ہوا روتے روتے، گاتا ہوا، ٹہلتا ہوا، مچلتا ہوا، دوڑتا ہوا،4۔ اسم فائلایسا اسم جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اسم فائل کہلاتا ہے۔یاوہ اسم جو کسی کام کرنے والے کی جگہ استعمال ہو اسم فائل کہلاتا ہے۔یاوہ اسم جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اور مصدر سے بنے اسم فائل کہلاتا ہے۔مثالیںلکھنا سے لکھنے والا، دیکھنا سے دیکھنے والا، سننا سے سننے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، رونا سے رونے والا وغیرہ۔عربی کے اسم فاعلاُردو میں عربی کے اسم فاعل استعمال ہوتے ہیں، جو عربی کے وزن پر اتے ہیں۔مثالیںعالم (علم والا)، قاتل (قتل کرنے والا)، حاکم (حکم دینے والا) وغیرہ۔فارسی کے اسم فاعلباغبان، ہوا باز، کاریگر، کارساز، پرہیز گار وغیرہ۔اسم فائل کی اقساماسم فائل کی مندرجہ ذیل اقسام ہیںاسم فاعل مفرداسم فائل مرکباسم فائل قیاسیاسم فائل سماعی1۔ اسم فائل مفرداسم فائل مفرد وہ اسم ہوتا ہے جو لفظِ واحد کی صورت میں ہو لیکن اُس کے معنی ایک سے زیادہ الفاظ پر مشتمل ہوں۔مثالیںڈاکو( ڈاکا ڈالنے والا)، ظالم (ظلم کرنے والا)، چور (چوری کرنے والا)، صابر (صبر کرنے والا)۔ رازق (رزق دینے والا) وغیرہ2۔ اسم فائل مرکبایسا اسم جو ایک سے زیادہ الفاظ کے مجموعے پر مشتمل ہو اسے اسم فائل مرکب کہتے ہیں۔مثالیںجیب کترا، بازی گر، کاریگر، وغیرہ3۔ اسم فائل قیاسیایسا اسم جو مصدر سے بنے اُسے اسم فائل قیاسی کہتے ہیں۔کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا، آنا سے آنے والا، دوڑنا سے دوڑنے والا وغیرہ4۔ اسم فائل سماعیایسا اسم فائل جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو، بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو، اُسے اسم فائل سماعی کہتے ہیں۔مثالیںشتربان، فیل بان، گویا، بھکاری، جادو گر، گھسیارا، پیغامبر، وغیرہفاعل اور اسم فاعل میں فرقفاعلفاعل ہمیشہ جامد اور کسی کام کرنے والے کا نام ہوتا ہےمثلا حامد نے اخبار پڑھا، عرفان نے خط لکھا امجد نے کھانا کھایا، اِن جملوں میں حامد، عرفان اورامجد فاعل ہیں۔اسم فاعلاسم فاعل ہمیشہ یا تو مصدر سے بنا ہوتا ہے۔ جیسا کہ لکھنا سے لکھنے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا یا پھر اس کے ساتھ کوئی فاعلی علامت پائی جاتی ہے۔ مثلا پہرا دار،باغبان، کارساز، وغیرہ5۔ اسم مفعولایسا اسم جو اُس شخص یا چیز کو ظاہر کرے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو اسم مفعول کہلاتا ہے۔یاجو اسم کسی شخص، چیز یا جگہ کی طرف اشارہ کرے جس پر کوئی فعل یعنی کام واقع ہوا ہو اُسے اسم مفعول کہا جاتا ہے۔مثالیںدیکھنا سے دیکھا ہوا، سونا سے سویا ہوا، رونا سے رویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، سُننا سے سُنا ہوا، وغیرہ۔اللہ مظلوم کی مدد کرتا ہے، وقت پر بویا گیا بیج آخر پھل دیتا ہے، رکھی ہوئی چیز کام آجاتی ہے، اِن جملوں میں مظلوم، بویا ہوا، رکھی ہوئی اسم مفعول ہیں۔عربی کے اسم مفعولعربی میں جو الفاظ مفعول کے وزن پر آتے ہیں، اسم مفعول کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔مثالیںمظلوم، مقتول، مخلوق، مقروض، مدفون وغیرہاسم مفعول کی اقساماسم مفعول کی دو اقسام ہیںاسم مفعول قیاسیاسم مفعول سماعی1۔ اسم مفعول قیاسیایسا اسم جو قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہو اسم مفعول قیاسی کہلاتا ہے۔یاایسا اسم جو مقررہ قاعدے کے مطابق بنایا جائے اُسے اسم مفعول قیاسی کہتے ہیں اور اِس اسم کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ماضی مطلق کے بعد لفظ ”ہوا“ بڑھا لیتے ہیں۔مثالیںکھانا سے کھایا ہوا، سونا سے سویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، رکھنا سے رکھا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، وغیرہ2۔ اسم مفعول سماعیایسا اسم جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنے بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو اُسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔ سماعی کے معنی سنا ہوا کے ہوتے ہیں۔یاایسا اسم جو کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو بلکہ جس طرح اہلِ زبان سے سنا ہو اسی طرح استعمال ہو اسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔مثالیںدِل جلا، دُم کٹا، بیاہتا، مظلوم، وغیرہفارسی کے اسم مفعول سماعیدیدہ (دیکھا ہوا)، شنیدہ (سنا ہوا)، آموختہ (سیکھا ہوا) وغیرہعربی کے اسم مفعول سماعیمفعول کے وزن پر، مقتول، مظلوم، مکتوب، محکوم، مخلوق وغیرہمفعول اور اسم مفعول میں فرقمفعولمفعول ہمیشہ جامد ہوتا ہے اور اُس چیز کا نام ہوتا ہے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو۔ جیسے عرفان نے اخبار پڑھا، فصیح نے خط لکھا، ثاقب نے کتاب پڑھی، اِن جملوں میں اخبار، خط اور کتاب مفعول ہیں۔اسم مفعولاسم مفعول ہمیشہ قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہوتا ہے۔ جیسے سونا سے سویا ہوا، کھانا سے کھایا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا وغیرہ، عربی میں مفعول کے وزن پر آتا ہے: مظلوم، مخلوق، مکتوب وغیرہ، یا پھر فارسی مصدر سے بنتا ہے جیسے شنیدن سے شنیدہ، آموختن سے آموختہ وغیرہ6۔ اسم استفہاماسم استفہام اُس اسم کو کہتے ہیں جس میں کچھ سوال کرنے یا معلوم کرنے کے معنی پائے جائیں۔مثالیںکون، کب، کہاں کیسے، کیوں، وغیرہ۔انتخاب:-حفیظ چوھدری*اردو کی چند اہم تعریفیں اور اردو گرائمر *حمد : نظم جس میں اللہ کی تعریف ہونعت : رسول اکرم ص کی تعریفی نظمقصیدہ/منقبت : کسی بھی شخصیت کی توصیفی نظممثنوی:چھوٹی بحر کی نظم جسکے ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں اور ہر شعر کا قافیہ الگ ہو۔مرثیہ: موت پہ اظہارِ رنج کی شاعری کی نظمغزل: عورتوں کی شاعری عشق، حسن و جمال و ہجر و فراق پہ شاعرینظم: ایک ہی مضمون والی مربوط شاعریقطعہ: بغیر مطلع کے دو یا دو سے ذیادہ اشعار جس میں ایک ہی مضمون کا تسلسل ہورباعی: چار مصرعوں کی نظم جسکا پہلا دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوں۔مخمس: وہ نظم جسکے بند پانچ پانچ مصرعوں کے ہوںمسدس: وہ نظم جسکے ہر بند کے چھے مصرعے ہوںداستان: کہانی کی قدیم قسمناول: مسلسل طویل قصہ جس کاموضوع انسانی زندگی ہو اور کردار متنوع ہوںافسانہ: مختصر کہانیڈرامہ : کہانی جسکو اسٹیج پہ کرداروں کی مدد سے پیش کیا جائےانشائیہ: ہلکا پھلکا مضمون جس میں زندگی کے کسی موضوع کو لکھا جائےخاکہ: کسی شخصیت کی مختصر مگر جامع تصویر کشیمضمون: کسی معین موضوع پہ خیالات و محسوساتآپ بیتی: خود نوشت و سوانح عمریسفر نامہ: سفری واقعات و مشاہداتمکتوب نگاری: خط لکھناسوانح عمری: کسی عام یا خاص شخص کی حیات کا بیانیہ بتفصیل.......اسم نکرہ کا مفہوم-وہ اسم جو غیر معین شخص یا شے (اشخاص یا اشیا) کے معانی دے اسم نکرہ کہلاتا ہے ــیاوہ اسم جو کسی عام جگہ، شخص یا کسی چیز کے لئے بولا جائے اسم نکرہ کہلاتا ہے اس اسم کو اسم عام بھی کہتے ہیں۔اسم نکرہ کی اقساماسم ذاتاسم حاصل مصدراسم حالیہاسم فاعلاسم مفعولاسم استفہاماسم ذات اُس اسم کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی چیز کی تمیزدوسری چیزوں سے کی جائے۔یاوہ اسم جس میں ایک چیز کی حقیقت یا اصلیت کو دوسری چیز سے الگ سمجھا جائے اسم ذات کہلاتا ہے۔اسم ذات کی مثالیں1۔ قلم، دوات 2۔ صبح، شام 3۔ ٹیلی فون، میز 4۔ پروانہ، شمع 5۔ بکری، گائے 6۔ پنسل، ربڑ 7۔ مسجد، کرسی 8۔ کتاب، کاغذ 9۔ گھڑی،دیوار 10۔ کمپیوٹر، ٹیلی ویژن وغیرہاشعارکی مثالیںزندگی ہو میرے پروانے کی صورت یارب علم کی شمع سے ہومجھ کو محبت یاربصبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمریوں ہی تمام ہوتی ہےاسم ذات کی اقسام1۔ اسم تصغیر 2۔ اسم مکبر 3۔ اسم ظرف 4۔ اسم آلہ 5۔ اسم صوت1۔ اسم تصغیریا اسم مصغرکا مفہوموہ اسم جس میں کسی نام کی نسبت چھوٹائی کے معنی پائے جائیں اسم تصغیر یا اسم مصغر کہلاتا ہے۔یااسم تصغیر وہ اسم ہے جس میں چھوٹا ہونے کے معنی پائے جائیں تصغیر کے معنی چھوٹا کے ہیں۔یااسم تصغیر وہ اسم ہے جس میں کسی چیز کا چھوٹا ہونا ظاہرہو۔اسم تصغیریا اسم مصغرکی مثالیںگھر سے گھروندا، بھائی سے بھیا، دُکھ سے دُکھڑا، صندوق سے صندوقچہ، پنکھ سے پنکھڑی، دَر سے دَریچہ وغیرہ2۔ اسم مکبروہ اسم ہے جس میں کسی چیز نسبت بڑائی کے معنی پائے جائیں اسم مکبر کہلاتا ہے۔یااسم مکبر وہ اسم ہے جس میں بڑائی کے معنی پائے جائیں، کبیر کے معنی بڑا کے ہوتے ہیں۔یااسم مکبر اس اسم کو کہتے ہیں جس میں بڑائی کے معنی ظاہر ہوں۔مثالیںلاٹھی سے لٹھ، گھڑی سے گھڑیال، چھتری سے چھتر، راہ سے شاہراہ، بات سے بتنگڑ، زور سے شہ زور وغیرہ3۔ اسم ظرفاسم ظرف اُس اسم کو کہتے ہیں جو جگہ یا وقت کے معنی دے۔یاظرف کے معنی برتن یا سمائی کے ہوتے ہیں، اسم ظرف وہ اسم ہوتا ہے جو جگہ یا وقت کے معنی دیتا ہے۔مثالیںباغ، مسجد، اسکول۔ صبح، شام، آج، کل وغیرہاسم ظرف کی اقساماسم ظرف کی دو اقسام ہیںاسم ظرف زماںاسم ظرف مکاں1۔ اسم ظرف زماںاسم ظرف زماں وہ اسم ہوتا ہے جو کسی وقت (زمانے) کو ظاہر کرےیاایسا اسم جو وقت یا زمانے کے معنی دے اسم ظرف زماں کہلاتا ہے۔مثالیںسیکنڈ، منٹ، گھنٹہ، دن، رات، صبح، شام، دوپہر، سہ پہر، ہفتہ، مہینہ، سال، صدی، آج، کل، پرسوں، ترسوں وغیرہ2۔ اسم ظرف مکاںاسم ظرف مکاں وہ اسم ہے جو جگہ یا مقام کے معنی دے۔یاوہ اسم جو کسی جگہ یا مقام کے لئے بولا جائے اُسے اسم ظرف مکاں کہتے ہیں۔مثالیںمسجد، مشرق، میدان، منڈی، سکول، زمین، آسمان، مدرسہ، وغیرہ4۔ اسم آلہاُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی آلہ یا ہتھیار کا نام ہو۔یااسم آلہ وہ اسم ہے جو کسی آلہ یا ہتھیار کے لئے بولا جائے۔یااسم آلہ اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی آلہ یا ہتھیار کا نام ہو، آلہ کے معنی اوزار یا ہتھیار کے ہوتے ہیں۔مثالیںگھڑی، تلوار، چُھری، خنجر، قلم، توپ، چھلنی وغیرہ5۔ اسم صوتوہ اسم جو کسی انسان، حیوان یا بے جان کی آواز دے اسم صوت کہلاتا ہے۔اسم صوت وہ اسم ہے جو کسی جاندار یا بے جان کی آواز کو ظاہر کرے۔ایسا اسم جو کسی جاندار یا بے جان کی آواز کو ظاہر کرے اسم صوت کہلاتا ہے، صوت کے معنی آواز کے ہوتے ہیں۔مثالیںکُٹ کُٹ مرغی کی آواز، چوں چوں چڑیا کی آواز، غٹرغوں کبوتر کی آواز، ککڑوں کوں مرغے کی آواز، کائیں کائیں کوے کی آواز وغیرہ2۔۔ اسم حاصل مصدرایسا اسم جو مصدر سے بنا ہو اور جس میں مصدر کے معانی پائے جائیں اسم حاصل مصدر کہلاتا ہے۔یاوہ اسم جو مصدرنہ ہو لیکن مصدر کے معنی دے حاصل مصدر کہلاتا ہے۔یاوہ اسم جس میں مصدر کے معانی پائے جائیں یعنی جو مصدر کی کیفیت کو ظاہر کرے اسم حاصل مصدر کہلاتا ہے۔مثالیںمثلاً: چہکنا سے چہک، ملنا سے ملاب، پڑھنا سے پڑھائی، چمکنا سے چمک، گبھرانا سے گبھراہٹ، پکڑنا سے پکڑ، چمکنا سے چمک، سجانا سے سجاوٹ وغیرہ۔3۔ اسم حالیہاسم حالیہ اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی فائل یا مفعول کی حالت کو ظاہر کرے۔مثالیںہنستا ہوا، ہنستے ہنستے، روتا ہوا روتے روتے، گاتا ہوا، ٹہلتا ہوا، مچلتا ہوا، دوڑتا ہوا،4۔ اسم فائلایسا اسم جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اسم فائل کہلاتا ہے۔یاوہ اسم جو کسی کام کرنے والے کی جگہ استعمال ہو اسم فائل کہلاتا ہے۔یاوہ اسم جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اور مصدر سے بنے اسم فائل کہلاتا ہے۔مثالیںلکھنا سے لکھنے والا، دیکھنا سے دیکھنے والا، سننا سے سننے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، رونا سے رونے والا وغیرہ۔عربی کے اسم فاعلاُردو میں عربی کے اسم فاعل استعمال ہوتے ہیں، جو عربی کے وزن پر اتے ہیں۔مثالیںعالم (علم والا)، قاتل (قتل کرنے والا)، حاکم (حکم دینے والا) وغیرہ۔فارسی کے اسم فاعلباغبان، ہوا باز، کاریگر، کارساز، پرہیز گار وغیرہ۔اسم فائل کی اقساماسم فائل کی مندرجہ ذیل اقسام ہیںاسم فاعل مفرداسم فائل مرکباسم فائل قیاسیاسم فائل سماعی1۔ اسم فائل مفرداسم فائل مفرد وہ اسم ہوتا ہے جو لفظِ واحد کی صورت میں ہو لیکن اُس کے معنی ایک سے زیادہ الفاظ پر مشتمل ہوں۔مثالیںڈاکو( ڈاکا ڈالنے والا)، ظالم (ظلم کرنے والا)، چور (چوری کرنے والا)، صابر (صبر کرنے والا)۔ رازق (رزق دینے والا) وغیرہ2۔ اسم فائل مرکبایسا اسم جو ایک سے زیادہ الفاظ کے مجموعے پر مشتمل ہو اسے اسم فائل مرکب کہتے ہیں۔مثالیںجیب کترا، بازی گر، کاریگر، وغیرہ3۔ اسم فائل قیاسیایسا اسم جو مصدر سے بنے اُسے اسم فائل قیاسی کہتے ہیں۔کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا، آنا سے آنے والا، دوڑنا سے دوڑنے والا وغیرہ4۔ اسم فائل سماعیایسا اسم فائل جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو، بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو، اُسے اسم فائل سماعی کہتے ہیں۔مثالیںشتربان، فیل بان، گویا، بھکاری، جادو گر، گھسیارا، پیغامبر، وغیرہفاعل اور اسم فاعل میں فرقفاعلفاعل ہمیشہ جامد اور کسی کام کرنے والے کا نام ہوتا ہےمثلا حامد نے اخبار پڑھا، عرفان نے خط لکھا امجد نے کھانا کھایا، اِن جملوں میں حامد، عرفان اورامجد فاعل ہیں۔اسم فاعلاسم فاعل ہمیشہ یا تو مصدر سے بنا ہوتا ہے۔ جیسا کہ لکھنا سے لکھنے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا یا پھر اس کے ساتھ کوئی فاعلی علامت پائی جاتی ہے۔ مثلا پہرا دار،باغبان، کارساز، وغیرہ5۔ اسم مفعولایسا اسم جو اُس شخص یا چیز کو ظاہر کرے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو اسم مفعول کہلاتا ہے۔یاجو اسم کسی شخص، چیز یا جگہ کی طرف اشارہ کرے جس پر کوئی فعل یعنی کام واقع ہوا ہو اُسے اسم مفعول کہا جاتا ہے۔مثالیںدیکھنا سے دیکھا ہوا، سونا سے سویا ہوا، رونا سے رویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، سُننا سے سُنا ہوا، وغیرہ۔اللہ مظلوم کی مدد کرتا ہے، وقت پر بویا گیا بیج آخر پھل دیتا ہے، رکھی ہوئی چیز کام آجاتی ہے، اِن جملوں میں مظلوم، بویا ہوا، رکھی ہوئی اسم مفعول ہیں۔عربی کے اسم مفعولعربی میں جو الفاظ مفعول کے وزن پر آتے ہیں، اسم مفعول کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔مثالیںمظلوم، مقتول، مخلوق، مقروض، مدفون وغیرہاسم مفعول کی اقساماسم مفعول کی دو اقسام ہیںاسم مفعول قیاسیاسم مفعول سماعی1۔ اسم مفعول قیاسیایسا اسم جو قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہو اسم مفعول قیاسی کہلاتا ہے۔یاایسا اسم جو مقررہ قاعدے کے مطابق بنایا جائے اُسے اسم مفعول قیاسی کہتے ہیں اور اِس اسم کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ماضی مطلق کے بعد لفظ ”ہوا“ بڑھا لیتے ہیں۔مثالیںکھانا سے کھایا ہوا، سونا سے سویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، رکھنا سے رکھا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، وغیرہ2۔ اسم مفعول سماعیایسا اسم جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنے بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو اُسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔ سماعی کے معنی سنا ہوا کے ہوتے ہیں۔یاایسا اسم جو کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو بلکہ جس طرح اہلِ زبان سے سنا ہو اسی طرح استعمال ہو اسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔مثالیںدِل جلا، دُم کٹا، بیاہتا، مظلوم، وغیرہفارسی کے اسم مفعول سماعیدیدہ (دیکھا ہوا)، شنیدہ (سنا ہوا)، آموختہ (سیکھا ہوا) وغیرہعربی کے اسم مفعول سماعیمفعول کے وزن پر، مقتول، مظلوم، مکتوب، محکوم، مخلوق وغیرہمفعول اور اسم مفعول میں فرقمفعولمفعول ہمیشہ جامد ہوتا ہے اور اُس چیز کا نام ہوتا ہے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو۔ جیسے عرفان نے اخبار پڑھا، فصیح نے خط لکھا، ثاقب نے کتاب پڑھی، اِن جملوں میں اخبار، خط اور کتاب مفعول ہیں۔اسم مفعولاسم مفعول ہمیشہ قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہوتا ہے۔ جیسے سونا سے سویا ہوا، کھانا سے کھایا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا وغیرہ، عربی میں مفعول کے وزن پر آتا ہے: مظلوم، مخلوق، مکتوب وغیرہ، یا پھر فارسی مصدر سے بنتا ہے جیسے شنیدن سے شنیدہ، آموختن سے آموختہ وغیرہ6۔ اسم استفہاماسم استفہام اُس اسم کو کہتے ہیں جس میں کچھ سوال کرنے یا معلوم کرنے کے معنی پائے جائیں۔مثالیںکون، کب، کہاں کیسے، کیوں، وغیرہ۔Specially thanks to ( With Respects )शमशुद्दीन सुलेमानीबीकानेर राजस्थान7737973822

Leave a Reply